قریباً دو سال سے یہ کتاب میری الماری کی زینت بنی رہی پر اٹھانے کی اجازت نہ تھی شاید۔ ہر بار ارادہ کرتا پر پھر کوئی نہ کوئی اور کتاب شروع کر لیتا تھا اور یہ ویسے کی ویسے ہی الماری میں اپنی خوبصورتی پر اتراتی بیٹھی رہتی تھی۔
آخر کار ہمت کر کے اٹھا ہی لی، وہ بھی اس وقت کہ جب کچھ پڑھنے کا من نہ ہوتا تھا اور کئی کتابیں شروع کر کے بنا مکمل کیے ہی چھوڑ رہا تھا۔

پہلے باب میں جس طرح ڈھیر سارے کردار اور بیک وقت دو تین نہیں بلکہ چھے ادوار متعارف کروائے گئے، مجھے تو یہی گمان گزرا کہ شاید مصنف ان تمام کے ساتھ انصاف نہ کرسکے گا، کیونکہ اتنی سارے کردار، اور وہ الگ الگ وقت کے دھاروں میں بہتے ہوئے، سنبھالنا کوئی خالہ جی کا وارہ تو ہے نہیں۔
اور یقین مانے کے آج تک غلط ثابت ہونے پر اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی مجھے۔
فیض کی نظم "زنداں کی ایک شام" سے مستعار ایک مصرع جو کہ کتاب کا عنوان ہے در حقیقت کتاب میں موجود کہانیوں کی روح سے جڑا ہے۔ جو امید، جو قوت مدافعت، جو برگشتگی و سرکشی فیض کے ان مصرعوں میں جھلکتی ہے:
"جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں"
وہی کہانی کے متعدد کرداروں کی خصلت بھی ہے۔ پھر چاہے وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنے والی رفیعہ بی بی ہوں یا چاہے مذہبی رہنماؤں کے بے دریغ ستم کے آگے آوار اٹھاتا پرکا۔ یہ امید کی کرنیں ہر دور کے "مارا" کے خلاف چمکنے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔
زیادہ غور کرنے پر یہ بھی معلوم ہوگا کہ ہر دور کی کہانیاں ایک سی ہیں پر ایک نہیں ہیں۔ جیسا کہ یہ نظامِ ظالم و مظلوم ازل سے لے کر آج تک ہر دور کا حصہ رہ چکے ہے، اور یقیناً ابد تک رہنے والا ہے، پر کرداروں اور طریقہء واردات میں ضرور ہیر پھیر ہوتی رہے گی۔ کبھی تو مذہب تو کبھی عسکری طاقت یا قانون کی مد میں یہ کام جاری و ساری رہے گا۔ فراز صاحب کا اس موضوع پر اک ایک شعر یاد آتا ہے:
امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہؑ مذہب کبھی بنامِ وطن
چھے مختلف تہذیبوں کو اس نفاست سے پیش کرنا کہ ہر ہر دور اپنی انفرادیت برقرار رکھے اور دوسرے ادوار میں نہ رسے پر پھر بھی ان کا آپسی جوڑ قائم رہے، کسی معجزے سے کم نہیں۔ اور یہی معجزہ اسامہ صدیق سے اس ناول میں سرزد ہوا ہے۔
مصنف نے اس مہارت سے تمام کہانیوں کو جوڑا اور اتنے وسیع کینوس پر بھی مائیکل اینجلو کی طرح اپنا برش پھسلنے نہ دیا۔ نہ صرف ہر کہانی کو نہایت اچھے تک اختتام تک پہنچایا، بلکہ کہانیوں کا آپسی ملاپ بھی اس قدر خوبصورت ہے کہ قاری کہانی ختم ہونے کے باوجود خود کو اس ماحول کے حصار سے نہیں نکال پاتا جس پہ اسامہ صاحب نے 480 صفحات کی بے لاگ محنت کی ہے۔
مصنف کے ساتھ ساتھ ہی مترجم بھی اتنی ہی داد کا حقدار ہے چونکہ عاصم بخشی کا ترجمہ ایسا رواں اور برجستہ ہے کہ کہیں شائبہ نہیں گزرتا کہ یہ ناول انگریزی میں لکھا گیا تھا اور آپ بس ایک ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔ جس مہارت سے مترجم نے مختلف ادوار میں استعمال ہونے والی زبانوں میں اس ناول کو ڈھالا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
بس اس کتاب کو مکمل کرنے پر اک یہی افسوس رہے گا کہ اب یہ کتاب کبھی پہلی بار نہ پڑھ سکوں گا۔
