Skip to main content

تبصرہ: ہیچ از انیس اشفاق

زنیر سعید3 min readاردو
FeaturedReview

ہیچ از انیس اشفاق

صفحات: 364

اردو زبان میں ادب کا ایک خاصہ بڑا حصہ تقسیمِ برصغیر پاک و ہند، اس سے جڑے واقعات اور اس کے نتائج پر مبنی ہے۔ یہ ناول بھی ان میں سے ایک ہے، پر باقیوں سے کچھ مختلف بھی، چونکہ اس میں تصویر کا دوسرا رخ بھی نہایت غیر جانبدارانہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کہانی ہے ایک بوڑھے مسلم کی جو ساری عمر فقط لکیر کی دوسری جانب رہنے کی وجہ سے اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں خود کا اور اپنے ہی مذہب کے باقی لوگوں کا استحصال ہوتا دیکھتا رہا۔ جس کے خود کے دل میں اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کے لئے تو بے حد محبت ہے، پر افسوس کہ اپنے لوگ اسے اپنا گرداننے سے انکاری ہیں، چونکہ وہ ان کے مذہب سے نہیں، بلکہ اس کا مذہب تو وہ ہے جو "ہمسائیوں" کے یہاں اکثریت کا رتبہ رکھتا ہے، اور اس کے لوگوں کو "ہمسائیوں" سے منسلک ہر ایک شے سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی کہ "ہمسائیوں" کو ان سے، یاں شاید اس سے بھی کئی گناہ زیادہ۔ جس وطن کیلئے وہ ایک ایک کر کے اپنے سب عزیز و اقارب کھو دیتا ہے اور بھری دنیا میں تنہا رہ جاتا ہے، اسی وطن کے لوگ، خاص کر کے ایک مخصوص طبقہ جو اپنی سیاست چمکانے کے لیے نہتی عوام کو ایذا پہنچانے میں کوئی حرج نہیں جانتے، اسے ہر پل یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم "ہم" میں سے نہیں، بلکہ "ان" میں سے ہو۔

"...دنیا نا اہلوں سے بھری ہوئی ہے سو بھول کر بھی نا اہلوں کے ہاتھ پر بیعت نہ کرنا..."

یہ بات تو طے ہے کہ جب جب ظلم سر اٹھائے گا اور ایک حد سے بڑھنے لگے گا تو اس کے خلاف کئی باغیانہ مزاج لوگ بھی ہتھیلی میں جان دھرے مقابلے کیلئے آ نکلیں گے۔ ایسا ہی ایک غیر روایتی کردار اس کہانی میں بہت اہمیت کا حامل ہے، جو ہر زیادتی اور حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا، بلکہ رہ سکتی، چاہے پھر اس کام میں کیسا بھی خطرہ کیوں نہ لاحق ہو۔ مصنف نے نسوانی کرداروں کو بھی بہادری اور شجاعت کا پیکر بنا کر پیش کیا ہے جو ہر موڑ پر مردوں کے شانہ بشانہ رہیں، بلکہ کئی مقامات پر ان پر سبقت بھی لے گئیں، جن سے ان عورتوں کا یہ شکوہ کہ، ہر بہادری کی مثال مردوں سے متعلقہ ہی کیوں ہے (جیسے مرد ہو تو سامنے آؤ، مردانہ وار، مردانگی، نامرد وغیرہ) صحیح معلوم ہونے لگتا ہے۔

انیس صاحب کا یہ چوتھا ناول ہے جو میرے زیرِ مطالعہ رہا، اور ان چاروں میں کچھ چیزیں مشترک تھیں۔ ایک تو مصنف کی شہرِ لکھنؤ اور اس کی تاریخ,، تہذیب، روایات، گلیوں، کوچوں اور کھانوں سے والہانہ محبت ہے۔ دوسرا اپنی ماں سے محبت، بلکہ عقیدت ہے، جن کے واسطے مصنف کے دل میں ایک خاص مقامِ معلوم ہوتا ہے، اور ہو بھی کیوں نہ جبکہ ایک خاتون ایسی بہترین خصوصیات کی مالک ہوں کہ گویا:

"ہر فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا"

اور تیسری شے وہ اداسی اور یاسیت کی ایک مخصوص فضا ہے جو ہر لمحہ کہانی کو اپنے حصار میں جکڑے رکھتی ہے، جس کی جھلک کرداروں کے ساتھ ساتھ اردگرد کے ماحول میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے، اور تو اور یہ فضا مطالعے کے دوران دھیرے دھیرے قاری کی ہڈیوں تک سرایت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔