"کرشن کی نظر میں گہرائی اور تخیل میں بلا کی اڑان ہے."
جب بھی اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگاروں کا ذکر چھڑتا ہے تو کرشن چندر کا نام سر فہرست ہوتا ہے. کرشن چندر افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ ناول نگار، فلم رائٹر، پروڈیوسر، ڈائیرکٹر اور ترقی پسند تحریک کے نمایاں رکن بھی تھے.
کرشن کے یہاں رومانیت، بغاوت اور سماجی حقیقتوں سے بھری کہانیوں کی بہتات تھی. جس بدولت آپ درجنوں ناول اور پانچ سو سے زائد افسانوں کے خالق بنے.
بقول علی سردار جعفری:
"کرشن وہ بے ایمان شاعر ہے جو افسانہ نگار کا روپ دھار کر آتا ہے اور بڑی بڑی محفلوں اور مشاعروں میں ہم سب ترقی پسند شاعروں کو شرمندہ کر کے چلا جاتا ہے."

اس کہانی کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ "وٹی" کون ہوتا ہے. خود ایک وٹی کی زبانی: "وہ لوگ زمیندار کے کھیت پر مزدور تھے، اس کے وٹی تھے، اس کے گوالے تھے، اس کے گھوڑے تھے اور ضرورت پڑنے پر اس کے مرغے بھی تھے اور اپنی بہو بیٹیوں کے دلال بھی تھے"، یعنی کہ ایک وٹی ہر وہ چیز ہوتا ہے جس کا اسے مالکوں سے حکم ملے. یہ کہانی بھی ایسے ہی ایک وٹی باپ کے وٹی بیٹے رگھوراؤ کے گرد گھومتی ہے جو جیل میں اپنی پھانسی کا منتظر بیٹھا بیتے دنوں کو سِکّوں کی صورت گن رہا ہے.
سوال یہ ہے کہ رگھوراؤ کو کس جرم میں پھانسی کی سزا ہوئی؟ کیا یہ جرم تھا کہ اس نے ایک وٹی ہونے کے باوجود زمینداروں کے خلاف آواز بلند کی؟ یا پھر اس کا نہتے کسانوں کو متحرک کرنا اور ان کو انہیں کی چھینی گئی زمینیں واپس لینے پر اکسانا جرم تھا؟ یا وہ اس لئے آج پھانسی کا منتظر بیٹھا تھا کہ اس نے خود کو اس وٹی کی مُہر سے آزاد کرنے کی کوشش تھی؟
دراصل رگھوراؤ کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے ایک وٹی ہونے کے باوجود نرم و ملائم ریشمی کپڑا زیبِ تن کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، اور اس بچگانی خواہش کی تکمیل میں وہ تختہِ دار تک آن پہنچا تھا. اسی ریشمی کپڑے کی جستجو میں اس نے کئی ہزار لوگوں کو متحرک کر کے بغاوت کا بیج بویا تھا، جو کہ سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا. اسی ڈھیلے ڈھالے، چکنے کپڑے کی آرزو میں اس نے کئی آزار جھیلے، کئی دوست کھو دیے مگر وہ اپنی اس معصوم خواہش کی تکمیل میں محو رہا.
کیا رگھوراؤ نے کوئی ایسا مطالبہ کردیا تھا جو اس کے باپ کے لئے ناممکن تھا؟ کیا کبھی وہ اپنی اس نازک ریشمی کپڑے کی پیاس کو بھجا پایا؟ یا پھر اس کے نصیب میں پھانسی کا مضبوط اور کھردرا پھندا ہی تھا؟
