Skip to main content

تبصرہ: سرگزشت از زیڈ اے بخاری

زنیر سعید5 min readاردو
FeaturedReview

کتاب: سرگزشت

مصنف: ذوالفقار علی بخاری

صفحات: 335

 

نیشنل بک فاؤنڈیشن کی شائع کردہ اس کتاب کی رفاقت سے پہلے ذوالفقار علی بخاری کا تصور میرے نزدیک فقط پطرس بخاری کے بھائی کی صورت میں موجود تھا۔ اس سے زیادہ نہ میری حضرت سے کوئی آشنائی تھی، اور یقیناً نہ ہی بخاری صاحب مجھ سے واقف تھے (جس کا کارن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جناب میری پیدائش سے کم و بیش پچیس برس پہلے ہی کوچ فرما گئے تھے)۔ پر اس کتاب نے دیکھتے ہی دیکھتے ذوالفقار علی بخاری کو ہمارے لئے زیڈ اے بخاری میں تبدیل کردیا۔ 

 

زیرِ تبصرہ کتاب "سرگزشت" (چھوٹے) بخاری صاحب کی خود نوشت آپ بیتی ہے (جیسا کہ کتاب کے نام سے خوب ظاہر ہے)۔ یہ ایک خاص سوانحی اسلوب میں تحریر شدہ ہے جو کہ قسط وار روز نامہ "حریت" میں شائع ہوتی رہی جس کے بعد اسے کتابی شکل دے دی گئی۔

 

یہ آپ بیتی روایتی سوانحات سے اس لئے مختلف ہے کہ مصنف نے اور لکھاریوں کی طرح کتاب کا آغاز اپنی والدہ کے حمل، پیدائش کی منظر کشی، دائی کے خد و خال اور اپنے پہلے الفاط جیسی دیگر یاوہ سرائیوں سے نہیں کیا۔ بلکہ بخاری صاحب تو ٹھہرے سیدھا مدعے کی بات کرنے کے عادی، سو کتاب کا آغاز بخاری صاحب کی زندگی کے واحد پیار سے ہوتا ہے۔ جی نہیں، یہ کوئی خاتون نہیں اور کوئی مرد تو قطعی نہیں، بلکہ یہ تو وہ بلا ہے جو ہزاروں میل کی مسافت چٹکیوں میں طے کرنے کی سکت رکھتی ہے، جو دہلی میں بیٹھے آپ کی آواز کو کلکتہ اور کلکتہ سے بمبئی پہنچانے کا گن رکھتی ہے۔ جی نہیں، بخاری صاحب کسی جن پر بھی عاشق نہیں تھے، بلکہ یہاں تو ذکر ہورہا ہے ریڈیو کا۔ 

 

اس کتاب کو جتنا حق مصنف کی آپ بیتی کہلانے کا ہے، اتنا ہی ریڈیو کی سوانح کہلانے کا بھی ہے، کہ برصغیر میں ریڈیو کے ابتدائی دنوں سے لے کر ریڈیو کی کامیابی تک کا سفر مصنف کی زیرِ نگرانی ہی گزرا ہے۔ ریڈیو اور زیڈ اے بخاری کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ اگر کوئی برصغیر کا بچہ ریڈیو کے خالق کا نام دریافت کرنے پر جواب میں بخاری صاحب کا نام لے لے تو زیادہ غلط نہ ہوگا (جو کہ "مار کہنی" کی اصطلاح کے باعث کبھی ہوتا نظر نہیں آتا)۔

 

زیڈ اے بخاری نے اپنی ساری زندگی ہی ریڈیو اور براڈکاسٹنگ کے نام وقف کی۔ پہلے دہلی، بمبئی، کلکتہ اور لاہور میں شٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور پھر آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے ریڈیو کی خدمت میں مشغول رہے۔ اسی سلسلے میں بی۔بی۔سی لندن اور حکومت برطانیہ سے بھی راہ و رسم رکھنا پڑی۔

 

اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ برطانیہ اور باقی ممالک کی سیر و سیاحت میں بھی وقف کیا ،اور تو اور جنگِ عظیم دوم میں ایک فوجی (جسے لڑائی کی پاس جانے کا موقع نہ ملا ورنہ جنگ بہت پہلے ہی ختم ہو جاتی) کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

 

یہ کہنا درست ہوگا کہ بخاری صاحب نے بھلے ہی رنگ رلیاں نہ منائی ہوں (جو کہ کتاب کے کئیں واقعات سے صاف ظاہر ہے)، پر زندگی خاصی رنگیں گزاری ہے، اور ایسی رنگیں کہ بڑے بڑے شوقین بھی حضرت کے آگے کان پکڑنے کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ اس رنگ برنگی زندگی میں کئی حیرت انگیز کرداروں کا دخل بھی تھا، جو کہ کتاب میں ایسے ماہرانہ طور پر بیان کیے گئے ہیں کہ قاری اسی تردد میں جکڑا رہتا ہے کہ ابھی صفحہ پلٹا اور جنابِ فیلڈن (تقسیم سے پہلے برصغیر میں ریڈیو کے ڈائریکٹر) باہر آ نکلیں گے اور قاری کی شان میں کچھ واہی تباہی بکنے لگیں گے۔

 

فاضل مصنف نے کتاب میں اپنے دوستوں کے سنگ جمنے والی شاعری و موسیقی کی محفلوں کے ساتھ ساتھ ریڈیو، سیاست، ادب اور فلم انڈسٹری سے منسلک کئی لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے، اسی دوران کئی لوگوں کے راز بھی کھولے ہیں اور چند ایک کا پردہ بھی رہنے دیا ہے، کیونکہ بقول مصنف: 

 

"اب میں آزاد ہوں، دنیا و مافہیا سے آزاد، اب مجھے سچ بولنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے، چاہے وہ سچ اپنے متعلق ہو یا دوسروں کے" 

 

تحریر کی بات کی جائے تو بخاری صاحب کا قلم کسی تعارف کا محتاج نہیں، طنز و مزاح سے بھرپور، ایسا لطیف اور شگفتہ اندازِ بیاں ہے کہ قاری پہلے لمحے سے ہی کتاب میں محو ہو جاتا یے اور آخر تک خود کو اس سحر سے آزاد نہیں کر پاتا جو مصنف اپنے خوبصورت اور دلکش اسلوب، برمحل اشعار (خاص کر فارسی کے)، ظریفانہ مقولات اور جاذبِ توجہ واقعات کی مدد سے قائم رکھتا ہے۔ شروع شروع میں ذرا ضخیم نظر آنے والی یہ کب ختم ہو جاتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا اور آخر میں قاری کے دل میں کئیں اور صفحات کی تشنگی چھوڑ جاتی ہے۔

تبصرہ نگار: زنیر سعید